My Daily Routine(08-07-2020)

سلاعلیکم 
آج میں آچانک سے اٹھ کر بیٹھ گیا بعض دفعہ ایسے ہوتا ہے کہ ذہن میں مختلف کہانیاں چل رہی ہوتی ہیں اور اچانک نیند ٹوٹ جاتی ہے  اور میں اٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں ہو آج بھی ایسا ہی  ہوا جب میں اٹھا تو  سب نماز پڑھ رہے تھے  میں بھی اٹھا وضو کیا نماز پڑھی قرآن پاک سونایا اور اندر کمرے میں آ کر لیٹ گیا  اور یہ انتظار کرنے لگا کے کب پاپا دوکان پر چلے جائیں  اور میں لیپ ٹاپ  استعمال کر سکوں میں بیڈ پر لیٹا رہاں اور انتظار کرتا رہا پھر اچانک پاپا کمرے میں آئے  انہوں نے الماری میں سے پیسے نکالے اور وضو کرنے کے لیۓ واش روم میں گئے اور پھر دکان پر چلے  گئے میں فوری اٹھا لیپ ٹاپ اون کیا  ذہن تو میرا بلوگ لکھنے کا تھا مگر میں نے یوٹیوب پر مختلف ویڈیوز دیکھنے لگا تھوڑی دیر میں  ماما  اٹھ گئی اور اور انہوں نے کہا کہ دکان پر چلے جاؤ او میں نے کہا اچھا  چلا جاتا ہوں یہ کہہ کر میں بیٹھا رہا  پھر دوبارہ ماما نے کہا کہ دکان پر چلے جاؤ اور میں غصہ ہو گیا اور میں نے کہا اچھا چلا جاتا ہوں پھر ماما غصہ  ہوگی اور کہا کہ کبھی تو بات مان لیا کرو  میں نے آگے سے کہا کہ آپ تو چاہتی ہیں ہہ کہ ہم دکان پر چلے جائیں اور وہاں پہ جا کر مر جائیں پتہ نہیں کب آپ سے جان چھوٹے گی گئی اور ماما نے کہا کہ جان تب چھوٹے گی جب میں مر جاؤں گی میں واش روم جا رہا تھا  جاتے ہوئے میں نے کہا کہ کاش دکان پر ڈاکو آئے تھے وہ مجھے مار جاتے مرنے کے بعد میں انہیں دعائیں دیتا (آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کون سے ڈاکو ؟)
           کچھ دن پہلے روز مرا کی طرح پاپا 9:00 بجے گھر آگۓ اور میں دکان پر چلا گیا میرا بھای پہلے دودھ لینے گیا اور بعد میں سمان لینے کے لیے چلا گیا تقریبا دو بجے میں اکیلا دکان پر تھا ویسے اس ٹائم ہم دکان بند کر دیتے ہیں کیوں کہ علاقہ سنسان ہو جاتا ہے آج کل گرمی بھی بہت زیادہ ہے  مگر اس دن ہم نے دکان بند نہیں کی تھی کیونکہ  آرڈر آنا تھا جوس کا اچانک دو لوگ  بائیک پر آئے  انہوں نے کہا  کہ آپ کے پاس جو بھی ٹھنڈی ریگولر بوتل ہے دے دو تو میں نے انہیں سٹرنگ نکال کر دیں  دونوں نے منہ پر مارکس پہن رکھا تھا  ایک لڑکے نے روڈ کی طرف منہ کیا مارکس اتارا اور آدھی بوتل پی اور باقی بوتل اس نے دوسرے کو دے دی اور وہ میری طرف ‏منہ کر لیا دوسرے نے بھی پہلے منہ روڈ کی طرف کیا پھر اپنا مارکس اتارا اور بوتل پی  پھر ایسے ہی انہوں نے ادھی ادھی سگریٹ پی اور مجھے پیسے دیے اور جانے لگے پھر ایک نے دوسرے سے کہا یار دیکھی وہ ہمارے پیچھے آرہے تھے کہاں رہ گئے دوسرے نے کہا پیچھے کو ہی نہیں آ رہا اتنے میں پہلے والے نے اپنی پینٹ میں سے گردن کالی اور دکان کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوگیا اس نے مجھے کہا کہ چپ کر کے پیچھے جا کر بیٹھ جاؤ اور جتنے پیسے ہے نکال دو  میرے پاس پیسے نہیں تھے تو میں نے اس کو کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہے  اس نے دکان کے گلے کی تلاشی لی اس نے گلے میں سے سارے پیسے نکال لیے  اور پھر گلے کے نیچے سے پیسے نکال لیے پھر اس نے میری تلاشی لی تو کچھ نا نکلا کچھ نہ نکلنے کے بعد اس نے دکان میں پڑی جتنی بھی سگریٹ تھی وہ شاپ پر ڈالیں اور لے گیا ان میں سے ایک نے جس کے پاس گن تھی جو بار بار یہی کہہ رہا تھا اٹنا مت نہیں تو میں تو مار دوں گا میں بیٹھا رہا دوسرے نے بائیک سٹارٹ کی اور وہ دونوں بھاگ گئے
میں بھاگ کر ان کے پیچھے آیا دکان سے باہر اتنے میں میرا بھائی آ گیا میں نے اسے سب کچھ بتایا کہ دو ڈاکو آئے تھے سب کچھ لے گئے ہیں وہ گھر گیا اور پاپا کو بلا کر لیا  انہیں سب دیکھا کی دکان کا سامان بکھرا ہوا ہے اوروہ گھر گئے  فون لے کر آئے پھر انہوں نے کہا کہ تم گھر چلے جاؤ تمہیں گھرمیں بلا رہے ہیں میں گھر آیا تو ماں بہت پریشان تھی رو رہی تھی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچایا میں نے کہا نہیں مجھے انہوں نے کچھ نہیں کہا ماما نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ تمہیں کچھ نہیں کہا  پیسے تو پھر بھی آجائیں گے پھر  مجھے دودھ کا گلاس پلایا  پھر تھوڑی دیر لیٹا اور پھر پاپا اور میرا چھوٹا بھائی دکان بند کر کے آ گئے پاپا نے یہ سارا واقعہ عنقل کو بتانا تھا اور جوار کا لیپ ٹاپ کا چارجر بھی لانا تھا اس لئے پاپا اور جواد  جانے لگے تو میں نے کہا میں بھی ساتھ آتا ہوں ہم تینوں بائیک پر بیٹھے اور موٹر مارکیٹ پہنچے پہلے ہم نے مسجد میں انکل کے والد صاحب سے پوچھا کہ انکل کہاں ہیں انہوں نے کہا کہ گھر ہوں گے ہم ان کے گھر گئے دروازہ کھٹکھٹایا اور انہیں سارا واقعہ بتایا اور پاپا نے کہا آپ کا فون نہیں لگ رہا تھا انکل نے بتایا کہ ان کا فون چوری ہو گیا ہے اس لئے وہ ہفتے سے فون استعمال نہیں کر رہے تھے پھر انہوں نے کہا کے چارجر بھی لینا ہے انکل نے اپنے ساتھ والے دکان دار کو  کہاں کے اسے چارجرلا کر دو  میں اور دکاندارچارجر  لینے سامنے دوکان پر گئے مگر وہاں سے نہ ملا انکل نے ہمیں ایک اور دکان کا بتایا ہم وہاں گئے اور چارجر کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ چارجر نہیں ہوگا پھر انہوں نے دکان میں تلاشی لی  تو ایک چارجر ملا مگر اسے چلا کر چیک نہ کر سکے کے دکان میں بجلی نہیں آ رہی تھی کہ ہم چارجر چیک کر سکے پھر ہم سب پھوپھو کے گھر گئے وہاں سے کرایہ لینا تھا وہاں پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ پھوپھو کی بڑی بیٹی آئی ہوئی ہے اپنے شوہر کے ساتھ نماز کا وقت تھا پہلے ہم نے وضو کیا اور نماز پڑھی اتنے میں پھوپھوں کا بڑا بیٹا آیا اور اس نے کہا کہ  آج کل کا دن ہمارے لئے بہت اچھا ہے مگر پاپا نے کہا ہمارے لیے نہیں اس نے کہا کیوں؟  پاپا نے اسے بتایا کے ایسے تھوڑی دیر پہلے ہماری دکان  میں چوری ہوئی ہے آپ کی دکان کی جگہ بدل لے کیونکہ آپ کا علاقہ سنسان ہیں اور چوروں کا ہاتھ کھل چکا ہے اس لیے وہ بار بار آتے ہیں پاپا نے کہا ہاں اب میں آگے  دو کان لینے لگا ہوں پھر پاپا نے کہا کہ بیگ میں سے لیپ ٹاپ انکال کر چارجر چیک کر لو میں نے لیپ ٹاپ نکالا اور پھوپھو کے ڈرائنگ روم میں جا کر چیک کیا چارجر نہیں چلا پاپا نے کہا کہ ہم ابھی واپس کر آتے ہیں پھر بعد میں کیسے آئیں گےگھر بہت دور ہے  ہم واپس موٹر مارکیٹ  آگئے اور دکاندار سے کہا کہ بھائی آپ کا یہ چارجر خراب ہے یہ نہیں چل رہا اس نے دوبارا دکان کی تلاشی لی تو ایک اور چارجرنکل آیا   پھر اس نے اپنے ساتھ والی دکان پر لگا کر چیک کروایا تھا چارجر  چل پڑا اور ہم اسے لے کر پھوپھو کے گھر آ گئے چارجنگ پر لگایا لیپ ٹاپ اون کیا تو دیکھا کے لیپ ٹاپ کورین زبان میں ہے اس کے ونڈو نی کرنی پڑے گی میرے پاس ونڈو کی سی ڈی پڑی تھی مگر وہ  گھرمیں تھی  اس لیے ہم لیپ ٹاپ لے کر گھر آ گئے تھے میں  اسے ڈرائنگ روم میں لے کر گیا ماما کو دکھانے وہ نماز پڑھ رہی تھی اور وہی چارجنگ پر لگایا  اور اپنے دراز سے ونڈو سیڈی نکال کر نیو ونڈو کرنے کی کوشش کی ونڈو تو ہو گی مگر کچھ ڈرائیور نہیں ہوئے  نماز پڑھ کر میں نے  پھر  ونڈو  دوبارہ کی مگر پھر وہی خرابی تھی  میں نے کھانا کھایا  سب نے پڑھ لی تھی وہ سب سو گئے مگر میں ونڈو ہونے  کا انتظار کرتا رہا ونڈو ہونے میں بہت دیر لگ رہی تھی اور سب سو چکے تھے میں تھک گیا تھا اس لئے میں نے لیپ ٹاپ بند کیا اور سو گیا 
آگر آپ میری روز مرا کی زندگی میں دلچسپی رکھتے ہیں تو میرے بلوگ ضرور پڑھیے  گا
خدا حافظ

Comments