8-7-2020 (My Daily Routine)
آسلام علیکم
یہ میرا تیسرا بلوگ ہے آپ کو اک مزے کی بات
بتاؤں کے میں نے پہلا بلوگ کل رات کو لکھا تھا تقریبا 09:30 بجے مگر انٹر نیٹ نا
ہو نے کی وجہ سے پوسٹ نہیں کر سکا اور دوسرا بلوگ میں نے آج صبح لکھا مجھے آج پاپا
نے اٹھایا اور کہا نماز پڑھ لو میں اٹھا نماز پڑھی قرآن پاک پڑھا پاپا کو سنایا
اور دوسرا بلوگ لکھنا شروع کر دیا پھر مجھے لگا کے
وہ کا فی لمبا ہو گیا ہے اس لیے
آب تیسرا بلوگ لکھ رہا ہون اچھا ویسے میرے پاس لیپٹوپ تو آگیا میں بھاٰی اسے
اکیڈمی لے گیاپاپا نےسرکو
پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں نے لیپٹوپ لے کر دیا ہے میں اکیڈمی میں داخل ہوا داخل ہوتے ہی میں نے سر کو سامنے دیکھااور سلام کیا میں
نے سر کو بتا دیا کہ میں نےلیپٹوپ لیا ہے سر نے لیپٹوپ اس لئے منگوایا تھا تاکہ
میں ان سے ایم ایس آفس کی کلاس لے سکوں سر نے کہا کہ مجھے آپ کے پاپا نے پہلے ہی
بتا دیا تھا میں نے بیگ کھولا لیپٹوپ سر کو دکھایا سرنے لیپٹوپ دیکھا سر نے کہا کہ
یہ پرانی جر نیشن کا ہے مگر آپکہ لیےٹھیک ہے میرا دوست بھی کھڑا تھا اس نے پہلے
کہا تھا کہ یاریہ تو بہت پرانا ہے پھر بعد میں مجھے اسی نہیں دلاسہ دیا کے تم نے تو صرف گیم ہی کھیل نہیں
ہوتی ہے کون سا کوئی کام کرنا ہے میں پھر اسے لے کر کلاس میں چلا گیا تو میں ویسے
ہی اسے چلاتا رہا اس میں گیمز کرنا مشکل تھی کہ میرا ایک دوست بولاکہ میرے پاس ایک
قلم ہے تم اسے لے لو اس نے مجھے ایک فلم دی تھی جو میں نے لیپٹوپ میں سیو کرلی
گھروالے فلم تو دیکھنے دیتے نہیں تھے مگر میں کمرے میں بیٹھ کر چھپ چھپ کر دیکھ تا
تھا پہلے میں فلم اندر کمرے میں اکیلے بیٹھ کر چپ کر دیکھتا تھا اور ایک فلم کو
تقریبا دو تین دن دیکھنے میں لگ جاتے تھے کہ میں نے ایک دن رات کو دیکھنا شروع کیا
پھر میں اپنے دوست سےفلم لے آتا ساری رات بیٹھ کر دیکھتا پاپا کے کمرے سے آواز آتی
سو جاتا اور مجھے اٹھاتے اور کہتے نماز پڑھ لو نماز پڑھتا ہوں پھر تیار ہوتا اور
کالج چلے جاتا بعض دفع دوران کلاس سو جاتا اور میں بیٹھتا بھی آگے تھا مجھے میرا
دوست توشار بار بار اٹھاتا یہ سلسلہ آہستہ آہستہ چلتا رہا میں اس سے فلم لیتا تھا
اور ساری رات بیٹھ کر دیکھتا تھا بعد میں اپنے تایا ابو سے ملنے اک دن ان کے دفتر
گیا انہیں معلوم ہوا کہ میں نے میٹرک کا امتحان دیا ہے تو انہوں نے پوچھا بیٹا کیا تحفہ چاہیے میں نے کہا کہ
مجھے لیپٹوپ چاہیے اس کے بعد انہو نے دوبار مجھے اپنے دفتربھلایا یا اور اورپچاس
ہزار روپے دیے اور کہا بیٹا میٹرو سے جاتے ہوئے لے جانا مگر میں نے اس دن لیپٹوپ
نہ لیا میں گھر آیا اور پاپا سے کہا کے سر کو پتا ہے لیپٹوپ کے بارے میں میں سر کو
کہو گا کے وہ لا کر دیں میں اکیڈمی گیا اور سر کو کہا کہ آپ میری مدد کر دیں
گےسرنے کہا ہاں میں سر پاپا کچھ دنوں بعد میٹرو گئے مگر وہاں سے ہمیں پسند نہ آیا
پھر ہم الفلح مال پر گئے مگروہاں سے بھی ہمیں لیپٹوپ پسند نہ آیا پھر ہم ریکس سٹی
گئے وہاں انہوں نے دیکھا مختلف قسموں کے لیپٹوپ دیکھے تو ایک لیپٹوپ پسند آیا ایچ
پی کا پاپا نے وہ لے لیا جو پچپن ہزار کا اور پھر استعمال کرنے لگا پرانے والا
لیپٹوپ میں نے اپنے بھائی کو دے دیا اس پر گیمز کھیلتا تھا میں وہیں فلمیں دیکھتا
تھا پھر میرے سامنے گھر والوں نے نیٹ لگایا ہوا ہے میں نے ان کے ایک بیٹے سے نیٹ
کا پاسورڈ پوچھ لیا پھر ساری رات بیٹھ کر انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہوئے فلمیں
دیکھتا اور صبح اٹھ کر کلج جاتا اور اس میں سوتا رہتا پھر کرونا کی وجہ سے چھٹیاں
ہوگی اور اب میری روٹین یہ ہے کہ ہم
سب رات کو سوتے ہیں صبح ہوتے ہی نماز پڑھتے ہیں قرآن پڑھتے ہیں اور پھر سو جاتے
ہیںمگر پاپا دکان پر چلے جا تے ہے پھرنو بجے ہم ناشتہ کرتے ہیں کہ دکان پر چلے
جاتے ہیں پاپا گھر آتے ہیں کھانا کھاتے اور پھر وہ ظہر کی نمازپرھنے کےبعددکان پر
واپس آتے ہیں ہم تھوڑی دیر کے لئے گھر آتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں تو تھوڑی دیر کے
لئے گھر آتے ہیں لیپٹوپ اوپن کر کے تھوڑا دیکھنا ہے چلے جانا ہےمگر ہفتے پہلے میں
نے ایک یوٹیوب پر ویڈیو دیکھی جس میں آن لائن ارننگ کرنے کے طریقے تھے جن میں سے
پہلا طریقہ تھا کہ ایک کلک اے بل ای میل سگنیچربناۓاوراسےبیچے اورمیں نہ اسی آدمی
کی ایک اور ویڈیو دیکھی جس میں اس نےبلوگ کے بارے میں بتایا تھا میں نے کہا کیوں
نہ میں اپنی زندگی کے بارے میں لکھوں اس لیے میں نے بلوگ کو لکھنا شروع کیا اس کے
الاوا مختلف آن لائن ارننگ کرنے کے طریقے ڈھونڈ رہا ہوں مگر کسی میں کامیاب نہیں
ہوا
آپ
لوگ دعا کرےکے میں کا میاب ہو جاؤں
خدا
حافظ
Comments
Post a Comment